حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدر ایران مسعود پزشکیان نے آج ایک قومی ٹیلی ویزن کے توسط سے ایرانی عوام سے گفتگو کرتے ہوئے اقتصادی مسائل سمیت دیگر مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے لوگوں میں منصفانہ طور پر تقسیم کیا جائے، چاہے یہ لوگ کسی بھی جماعت، گروہ، نسل یا کسی بھی صوبے یا زبان سے تعلق رکھتے ہوں۔
صدر مملکت نے ملک میں جاری حالیہ واقعات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن ملک میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے اور اس کے لئے اس نے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو ملک میں داخل کیا ہے۔
فسادی اور بلوائی، پرامن احتجاج کرنے والے لوگ نہیں ہیں-صدر پزشکیان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دشمن نے بارہ روزہ جنگ کے دوران بھی ملک میں افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی کہا کہ آج ایک بار پھر ایرانی عوام کے دشمن بدامنی اور مداخلت میں شدت لانے کے درپے ہیں، اسی لئے ان کے کرائے کے مزدوروں نے مساجد اور قرآن کو آگ لگائی، امامبارگاہوں کو نذر آتش کیا، ہمارے بازاروں کو آگ لگائی ، ہتھیاروں سے لوگوں کا قتل کیا، لوگوں پر مشین گنوں سے فائرنگ کی، اور یہاں تک کہ ان کا سر قلم کر دیا۔
انہوں نے تاکید کی کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ عام لوگ نہیں ہیں، یہ اس ملک کے لوگ نہیں ہیں۔ کوئی بھی ایرانی اپنے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرے گا۔ اگر لوگ پر امن احتجاج کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے، ہم ان کے مطالبات کو سنیں گے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔









آپ کا تبصرہ